حدیث نمبر: 3557
عَنْ أَبِي عَرِيفِ بْنِ سَرِيعٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: يَتِيمٌ كَانَ فِي حَجْرِي تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِجَارِيَةٍ ثُمَّ مَاتَ وَأَنَا وَارِثُهُ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: سَأُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، حَمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ وَجَدَ صَاحِبَهُ فَدَفَعَهُ يَبِيعُهُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيهُ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنْهُ وَقَالَ: ((إِذَا تَصَدَّقْتَ بِصَدَقَةٍ فَأَمْضِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو عریف بن سریع سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا: میری کفالت میں ایک یتیم بچہ تھا، میں نے اسے ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی، پھر وہ بچہ فوت ہو گیا اورمیں ہی اس کا وارث ہوں، (اب اس لونڈی کا کیا بنے گا)؟ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: میں تمہیں ایسی حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود سنی ہے، بات یہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا، پھر جب انھوں نے دیکھا کہ اس آدمی نے اس کو بیچنے کے لیے ایک مقام پر پیش کر دیا، تو انھوں نے اس کو خرید لینے کا ارادہ کیا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا: جب ایک دفعہ صدقہ کر دو تو جاری کر دیا کرو (یعنی کسی طرح سے واپس لینے کا نہ سوچا کرو)۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3557
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، رشدين بن سعد ضعيف، و عريف بن سريع لم يوثقه غير ابن حبان ولم يرو عنه غير توبه بن نمر، وقصة حمل عمر علي فرس صحيحة۔ اخرجه البخاري في ’’تاريخه‘‘: 2/ 152 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6616»