حدیث نمبر: 3554
((وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ)) عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ صَاحِبُهُ فَأَرَدْتُّ أَنْ أَبْتَاعَهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَقُلْتُ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((لَا تَبْتَعْهُ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ، فَإِنَّ الَّذِي يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا، لیکن اس کے مالک نے اس کو ضائع کر دیا، اس لیے میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، جبکہ مجھے یہ توقع بھی تھی کہ وہ اسے سستے داموں بیچ دے گا، پھر میں نے سوچا کہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کر لوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے مت خریدو، خواہ وہ تمہیں ایک درہم کے عوض دے دے، صدقہ کرکے اسے واپس لینے والے کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قے کرکے چاٹ لیتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجس ترین مخلوق کی سب سے گندی حالت بیان کر کے اس جرم سے نفرت دلائی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3554
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ايضًا (3555) تخر يج: اخرجه البخاري: 1489، ومسلم: 1621، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4903 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 281»