الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ نَهْيِ الْمُتَصَدِّقِ عَنْ مُشْتَرَى مَا تَصَدَّقَ بِهِ باب: صدقہ کرنے والے کے لیے اپنی صدقہ کی ہوئی چیز خریدنے سے ممانعت کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَآهَا أَوْ بَعْضَ نِتَاجِهَا يُبَاعُ فَأَرَادَ شِرَاءَهُ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((أَتْرُكْهَا تُوَافِكَ أَوْ تَلْقَاهَا جَمِيعًا))، وَقَالَ مَرَّةً: فَنَهَاهُ وَقَالَ: ((لَا تَشْتَرِهِ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ))۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا تھا، پھر جب انھوں نے دیکھا کہ اس کو یا اس کے بچے کو فروخت کیا جا رہا ہے تو انھوں نے اس کو خرید لینے کا ارادہ کیا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اس کو نہ خریدو، تاکہ (قیامت کے روز) وہ تجھے پورا پورا ملے (یا پھر راوی نے کہا) تم اس کا پورا اجر پا سکو۔ ایک دفعہ راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا: اسے مت خریدو اور اپنی صدقہ کی ہوئی چیز میں مت لوٹو۔