حدیث نمبر: 3550
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ، قَالَ: فَجَعَلَ لَا يَسْأَلُهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ، إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُمْ حَيْثُ أَنْفَقَ كُلَّ شَيْءٍ بِيَدِهِ: ((وَمَا يَكُونُ عِنْدَنَا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ نَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ، وَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَعْفِفْ بُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَلَنْ تُعْطَوْا عَطَاءً خَيْرًا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ انصاری لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عطا فرما دیا، ان میں سے جو آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے وہ چیز دیتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا، وہ ختم ہو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا، ختم ہوگیا تو آپ نے فرمایا: ہمارے پاس جو مال بھی ہو گا، ہم اس کو تم سے بچا کر نہیں رکھیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی مانگنے سے بچے گا، اللہ تعالیٰ اسے مانگنے سے بچا لے گا، جو لوگوں سے استغناء کا اظہار کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے مستغنی کر دے گا اور جو صبر کو اپنائے گا، اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق سے نواز دے گا اور تم (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کوئی بھلائی نہیں دئیے جاؤ گے جو صبر سے بڑی وسعت والی ہو۔

وضاحت:
فوائد: … کوئی مانے یا نہ مانے، اس وقت امت ِ مسلمہ پر مسلّط بڑی مصیبتوں میں سے ایک مصیبتیہ ہے کہ سوالی کے حق کی معرفت اور شناخت نہیں رہی،یتامی و فقراء و مساکین کے معاملے میں انتہائی لا پرواہی برتی جا رہی ہے، بلکہ بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ بعض مالدار لوگ اپنے ماحول میں غریبوں کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں، جبکہ ان ہی کے محلّوں میں اللہ تعالیٰ کی قابل ترس مخلوق فاقہ میں شب و روز گزار رہی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: {فَأَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْھَرْ۔ وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْھَرْ۔} (سورۂ ضحی: ۹، ۱۰)) … ’’پس یتیم پر تو سخی نہ کیا کر اور سوال کرنے والے کو ڈانٹ ڈپٹ نہ کر۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر سوالیوں سے نرمی کرنے اور ان کا حق ادا کرنے کی تلقین کی ہے۔ ایک اہم مسئلہ عصر حاضر کے سوالیوں اور بھکاریوں کا ہے، اگر کوئی آدمی کسی سائل کی تحقیق کرنا چاہتا ہو تو اس معاملے میں قطعی طور پر اس کو سختی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور اگر اس کی تحقیق کے مطابق وہ سائل مستحق ثابت نہیں ہوتا تو اسے چاہیے کہ حسنِ اخلاق کے ساتھ اس کو سمجھا دے، تاکہ بات اس کے دل میں گھر کر جائے، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۵۰۷) کا تقاضا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3550
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11912»