الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْبِرِّ بِالسَّائِلِ وَتَحْسِينِ الظَّنِّ بِهِ وَإِعْطَائِهِ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ باب: سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: إِنَّ سَائِلًا وَقَفَ عَلَى بَابِهِمْ فَقَالَتْ لَهُ جَدَّتُهُ حَوَّاءُ: أَطْعِمُوهُ تَمْرًا، قَالُوا: لَيْسَ عِنْدَنَا، قَالَتْ: فَاسْقُوهُ سَوِيقًا، قَالُوا: الْعَجَبُ لَكِ نَسْتَطِيعُ أَنْ نُطْعِمَهُ مَا لَيْسَ عِنْدَنَا؟ قَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا تَرُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ))۔ سیدنا عمرو بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک سائل ان کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا، ان کی دادی سیدہ حواء رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا:اس کو کھجور دے دو، گھر والوں نے کہا: ہمارے پاس کھجوریں نہیں ہیں، اس نے پھر کہا: تو پھر اسے ستو پلا دو، اہل خانہ نے کہا: تجھ پر بھی تعجب ہے، جو چیز ہمارے پاس نہیں ہے، ہم اسے کیسے دیں؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کسی سائل کو (خالی ہاتھ) واپس نہ لوٹنے دو،اگرچہ جو چیز اسے دی جائے، وہ جلایا ہوا کھر ہی ہو۔