الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْبِرِّ بِالسَّائِلِ وَتَحْسِينِ الظَّنِّ بِهِ وَإِعْطَائِهِ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ باب: سائل کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھنے اور خواہ وہ گھوڑے پر آئے، اس کو کچھ نہ کچھ دینے کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَتَّخِذُ لَهُ سَوِيقَةً فِي قَعْبَةٍ لِي فَإِذَا جَاءَ سَقَيْتُهَا إِيَّاهُ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ يَأْتِينِي السَّائِلُ فَأَتَزَهَّدُ لَهُ بَعْضَ مَا عِنْدِي، (وَفِي رِوَايَةٍ فَلَا أَجِدُ فِي بَيْتِي مَا أَرْفَعُ فِي يَدِهِ) فَقَالَ: ((ضَعِي فِي يَدِ الْمِسْكِينِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا))۔ سیدہ ام بُجَیْد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں تشریف لایا کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لکڑی کے ایک پیالہ میں ستو بنا تی تھی، جب آپ تشریف لاتے تو میں وہ انہیں پلاتی۔ (ایک دن) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بسا اوقات ایک سائل میرے پاس آتا ہے اور میں اسے اس بنا پر کچھ نہیں دیتی کہ جو کچھ میرے پاس ہوتا ہے، میں اسے بہت معمولی سمجھتی ہوں، ایک روایت میں ہے: اس کو دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی، (ایسی صورت میں میں کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مسکین کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو، خواہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔