حدیث نمبر: 3546
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَتَّخِذُ لَهُ سَوِيقَةً فِي قَعْبَةٍ لِي فَإِذَا جَاءَ سَقَيْتُهَا إِيَّاهُ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ يَأْتِينِي السَّائِلُ فَأَتَزَهَّدُ لَهُ بَعْضَ مَا عِنْدِي، (وَفِي رِوَايَةٍ فَلَا أَجِدُ فِي بَيْتِي مَا أَرْفَعُ فِي يَدِهِ) فَقَالَ: ((ضَعِي فِي يَدِ الْمِسْكِينِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام بُجَیْد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں تشریف لایا کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لکڑی کے ایک پیالہ میں ستو بنا تی تھی، جب آپ تشریف لاتے تو میں وہ انہیں پلاتی۔ (ایک دن) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بسا اوقات ایک سائل میرے پاس آتا ہے اور میں اسے اس بنا پر کچھ نہیں دیتی کہ جو کچھ میرے پاس ہوتا ہے، میں اسے بہت معمولی سمجھتی ہوں، ایک روایت میں ہے: اس کو دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی، (ایسی صورت میں میں کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مسکین کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو، خواہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔

وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مقصود یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی انتہائی کم قیمت چیزوں کا مالک ہو تو اسے چاہیے کہ ان ہی سے مسکین کامطالبہ پورا کرنے کی کوشش کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3546
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ اخرجه ابوداود: 1667، والترمذي: 665، والنسائي: 5/ 86 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27692»