الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ جَوَازِ قَبُولِ الْعَطَاءِ إِذَا كَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ - وَسُؤَالِ الصَّالِحِينَ إِنْ كَانَ وَلَا باب: اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو¤تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
حدیث نمبر: 3544
عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يُرَدَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناخالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جسے بن مانگے اور بغیر حرص کے اپنے مسلمان بھائی کی طرف سے (ہدیہ، عطیہ، ہبہ وغیرہ جیسی) کوئی چیز ملے تو وہ اسے قبول کر لے اور واپس نہ لوٹائے، کیونکہ وہ اللہ کا رزق ہے، جو وہ اس کی طرف کھینچ کر لایا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس ضمن میں یہ گزارش کرنا ضروری ہے کہ بعض لوگوں کو جب کوئی تحفہ دیا جاتا ہے یا ان کی ضیافت وغیرہ کی جاتی ہے، تو وہ اسے قبول کرنے میں اتنا تکلف برتتے ہیں کہ تحفہ پیش کرنے والا بیچارہ پریشان ہو جاتا ہے اور اس کا سارا مزہ بے مزہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر کوئی آدمی اس قسم کی کوئی چیز پیش کر رہا ہے تو ایک دفعہ بڑی خوشی کے ساتھ قبول کر کے شکریہ ادا کرنا چاہیے، ہاں اگر واضح طور پر معلوم ہو رہا ہو کہ دینے والے کا مقصد خوشامد ہے یا وہ صرف رکھ رکھاؤ کے لیے اپنی حیثیت سے بڑھ کر یہ کام کر رہا ہے تو اسے بعد میں اچھے انداز میں سمجھا دینا چاہیے۔