الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ جَوَازِ قَبُولِ الْعَطَاءِ إِذَا كَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ - وَسُؤَالِ الصَّالِحِينَ إِنْ كَانَ وَلَا باب: اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو¤تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنِ ارْفَعْ إِلَيَّ حَاجَتَكَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((ابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى)) وَإِنِّي لَا أَحْسِبُ الْيَدَ الْعُلْيَا الْمُعْطِيَةَ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةَ، وَإِنِّي غَيْرُ سَائِلِكَ شَيْئًا وَلَا رَادٌّ رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيَّ مِنْكَ۔ قعقاع بن حکیم کہتے ہیں کہ عبد العزیز بن مروان نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف یہ لکھ کر بھیجا کہ ان کی کوئی ضرورت ہو تو وہ پیش کریں۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: خرچ کرتے وقت اپنے زیر کفالت افراد سے ابتدا کیا کرو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اوپر والا ہاتھ دینے والا ہے اور نیچےوالا سوال کرنے والا ہے، لہذا میں آپ سے کچھ نہیں مانگتا اور اگر اللہ تعالیٰ آپ کی طرف سے مجھے کوئی چیز بھجوا دے تو اسے واپس نہیں کروں گا۔