الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ جَوَازِ قَبُولِ الْعَطَاءِ إِذَا كَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ - وَسُؤَالِ الصَّالِحِينَ إِنْ كَانَ وَلَا باب: اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو¤تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِنَفَقَةٍ وَكِسْوَةٍ، فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ: إِنِّي يَا بُنَيَّ لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ: رُدُّوهُ عَلَيَّ، فَرَدُّوهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَا عَائِشَةُ! مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَأَقْبَلِيهِ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ))۔ مطلب بن حنطب کہتے ہیں: عبد اللہ بن عامر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کچھ خرچہ اور لباس بھیجا، لیکن انہوں نے قاصد سے کہا: میرے پیارے بیٹے! میں کسی سے کوئی چیز قبول نہیں کرتی، جب وہ چلا گیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:اسے واپس بلاؤ۔ جب لوگوں نے اسے واپس بلایا تو انھوں نے کہا: مجھے ایک بات یاد آئی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمائی تھی کہ عائشہ ! جو آدمی بن مانگے کوئی چیز تمہیں دے دے تو وہ لے لیا کرو، کیونکہ یہ تو ایسا رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف بھیجا ہے۔