الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ جَوَازِ قَبُولِ الْعَطَاءِ إِذَا كَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ - وَسُؤَالِ الصَّالِحِينَ إِنْ كَانَ وَلَا باب: اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو¤تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ مِنِّي، قَالَ: فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ، وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ، وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا، فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ))۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی چیز دیتے تھے تو میں کہتا تھا کہ آپ یہ چیز اس کو دیں، جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے مال دیا اور میں نے کہا:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ مال مجھ سے زیادہ حاجت مند کو دیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ لے لو اور اس کے مالک بنو اور (پھر چاہو تو) اسے صدقہ کر دو، جو مال لالچ اور سوال کے بغیر مل جائے، وہ لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے تو اپنے نفس کو اس کے پیچھے نہ لگایا کرو۔