حدیث نمبر: 3539
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ثَوْبَانَ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ يَتَقَبَّلُ، (وَفِي رِوَايَةٍ مَنْ يَتَكَفَّلُ) لِي بِوَاحِدَةٍ وَأَتَقَبَّلُ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَأَتَكَفَّلُ) لَهُ بِالْجَنَّةِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: ((لَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا))، فَكَانَ ثَوْبَانُ يَقَعُ سَوْطُهُ وَهُوَ رَاكِبٌ فَلَا يَقُولُ لِأَحَدٍ نَاوِلْنِيهِ حَتَّى يَنْزِلَ فَيَتَنَاوَلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھے ایک چیز کی ضمانت دے، اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں گا؟ میں نے کہا: جی میں (حاضر ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: توپھر تم نے لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرنا۔ جب سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہوتے اور ان کی لاٹھی گر جاتی تو وہ کسی سے نہیں کہتے تھے کہ وہ ان کو اٹھا کر دے دے، بلکہ خود سواری سے اتر کر اس کو اٹھاتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … ہمیں اندازہ کر لینا کہ ہمارے مذہب کے نزدیک ہماری عزت اور غیرت کس قدر قیمتی چیز ہے کہ اس کا ہلکا سا متأثر ہونا بھی ہماری شریعت کو گوارا نہیں ہے، جو لوگ شریعت کے اس قانون کے بارے میں محتاط نہیں رہتے، معاشرے میں ان کی قدر گھٹ جاتی ہے، بلکہ وہ خود عزت ِ نفس میں کمی ہوتی ہوئی محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں اس بارے میں اپنے ضمیر کے ساتھ یہ پکا فیصلہ کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کسی شخص سے کوئی مطالبہ نہیں کرنا اور کسی بشر سے کوئی حرص اور لالچ وابستہ نہیں رکھنی، زندگی کا مزہ بھی آئے گا اور اللہ تعالیٰ خیر و برکت بھی عطا کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3539
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1837، والنسائي: 5/ 96، ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22744»