الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
فَصْلٌ مِنْهُ فِي الْبَيْعَةِ عَلَى عَدَمِ السُّؤَالِ باب: سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَأَبِي الْمُثَنَّى أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، وَأَوْثَقَنِي سَبْعًا، وَأَشْهَدَ اللَّهَ عَلَيَّ تِسْعًا أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، ثُمَّ قَالَ أَبُو الْمُثَنَّى: قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((هَلْ لَكَ إِلَى بَيْعَةٍ وَلَكَ الْجَنَّةُ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَبَسَطْتُ يَدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشْتَرِطُ عَلَيَّ: ((أَنْ لَا تَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا))، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((وَلَا سَوْطَكَ إِنْ يَسْقُطْ مِنْكَ حَتَّى تَنْزِلَ إِلَيْهِ فَتَأْخُذَهُ))۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے اس بات پر پانچ دفعہ بیعت لی، سات مرتبہ پختہ عہد لیا اور نو بار اللہ تعالیٰ کو مجھ پر گواہ بنایا کہ میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں۔ ابو مثنّٰی کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: کیا تم ایک ایسی میری بیعت کرنے پر تیار ہو جاؤ گے، جس کے عوض تم کو جنت ملے گی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر میں نے اپنا ہاتھ آگے کر دیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر اس شرط کا تعین کرتے ہوئے فرمایا: تم نے لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرنا۔ میں نے کہا: جی ٹھیک ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوڑا بھی گر جائے تو اس کا سوال بھی نہیں کرنا، بلکہ خود اتر کر اٹھانا ہے۔