الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
فَصْلٌ مِنْهُ فِي التَّعَفُّفِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ وَفَضْلِ ذَلِكَ باب: سوال کرنے سے بچنے اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنْ حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ قَوْمِي كَفَرُوا، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَهَّزَ لَهُمْ جَيْشًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ قَوْمِي عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: ((أَكَذَلِكَ؟)) فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاتَّبَعْتُهُ لَيْلَتِي إِلَى الصَّبَاحِ فَأَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ لَمَّا أَصْبَحْتُ وَأَعْطَانِي إِنَاءً تَوَضَّأَ مِنْهُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْإِنَاءِ فَانْفَجَرَ عُيُونًا، فَقَالَ: ((مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَلْيَتَوَضَّأْ))، فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ وَأَمَّرَنِي عَلَيْهِمْ وَأَعْطَانِي صَدَقَتَهُمْ، فَقَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: فُلَانٌ ظَلَمَنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا خَيْرَ فِي الْإِمْرَةِ لِمُسْلِمٍ))، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ صَدَقَةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الصَّدَقَةَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَحَرِيقٌ فِي الْبَطْنِ أَوْ دَاءٌ))، فَأَعْطَيْتُهُ صَحِيفَتِي أَوْ صَحِيفَةَ إِمْرَتِي وَصَدَقَتِي، فَقَالَ: ((مَا شَأْنُكَ؟)) فَقُلْتُ: كَيْفَ أَقْبَلُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ، فَقَالَ: ((هُوَ مَا سَمِعْتَ))۔ صحابی ٔ رسول حبان بن بح صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری قوم کے بعض لوگ کافر ہو گئے ہیں تو مجھے اطلاع دی گئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک لشکر تیار کیا ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میری قوم تو اسلام ہی پر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا واقعی بات ایسے ہی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پھر میں صبح تک یعنی رات بھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہا، صبح کو میں نے نماز کے لئے اذان کہی، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک برتن دیا تاکہ میں وضو کر لوں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس برتن میں ڈالیں تو ان سے چشمے پھوٹ پڑے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی وضو کرنا چاہتا ہے کر لے۔)) چنانچہ میں نے وضو کیا اور نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کا امیربنایا اور ان کی طرف سے ادا کیے گئے صدقات مجھے عطا کر دیئے، ایک آدمی اٹھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، اس نے کہا: فلاں آدمی نے مجھ پر ظلم کیا ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے لئے امارت میں کوئی خیر نہیں ہے۔ اس کے بعد ایک آدمی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقے کا سوال کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ سر کی درد اور پیٹ کی جلن یا بیماری کا سبب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ فرامین سن کر میں نے اپنی امارت اور صدقات وصول کرنے کا عہدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس لوٹا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: میں اس ذمہ داری کوکیسے قبول کروں، جبکہ آپ اس کے بارے میں یہ کچھ فرما چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات تو وہی ہے جو تم سن چکے ہو۔