الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ التَّكَسُّبِ اتِّكَالًا عَلَى السُّؤَالِ وَوَعِيدِ فَاعِدٍ باب: بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3531
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ وَإِنَّمَا يُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً بِطِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَطِيبِ طَعْمَةٍ، فَإِنَّهُ يُبَارَكُ لَهُ فِيهَا، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً بِشَرَهِ نَفْسٍ وَشَرَهِ مَسْأَلَةٍ فَهُوَ كَالَّذِي يَأْكُلُ فَلَا يَشْبَعُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو خزانچی (اور تقسیم کرنے والا) ہوں، دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے، میں جس آدمی کو بخوشی کوئی چیز دوں گا تو اس کے لئے اس میں برکت کی جائے گی اور میں جس کو اس کے نفس اور سوال کی شدید حرص کے ساتھ دوں گا تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھاتاتو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا۔