الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ التَّكَسُّبِ اتِّكَالًا عَلَى السُّؤَالِ وَوَعِيدِ فَاعِدٍ باب: بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3530
عَنْ مُعَاوِيَةَ (بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فَوَاللَّهِ! لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ شَيْئًا فَتَخْرُجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ، فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مانگنے پر اصرار نہ کیا کرو، اللہ کی قسم! جو بندہ بھی مجھ سے سوال کرے گا اور پھر اس کا سوال مجھ سے مال بھی نکال لے گا تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((فَوَاللّٰہِ! لَا یَسْاَلُنِیْ اَحَدٌ مِنْکُمْ شَیْئًا فَتُخْرِجُ لَہٗمَسْاَلَتُہٗمِنِّیْ شَیْئًا وَاَنَا لَہٗکَارِہٌفَیُبَارَکَ لَہٗفِیْ مَا اَعْطَیْتُہٗ۔)) یعنی: ’’اللہ کی قسم! جو بندہ بھی مجھ سے سوال کرتا ہے اور اس کا سوال مجھ سے مال بھی نکال لیتا ہے، جبکہ میں ناپسند کرنے والا ہوں، تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں کی جائے گی۔‘‘