الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْكِ التَّكَسُّبِ اتِّكَالًا عَلَى السُّؤَالِ وَوَعِيدِ فَاعِدٍ باب: بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَقَدْ سَمِعْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا يُحْسِنَانِ الثَّنَاءَ، يَذْكُرَانِ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُمَا دِينَارَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَكِنْ وَاللَّهِ! فُلَانًا مَا هُوَ كَذَلِكَ، لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ عَشَرَةٍ إِلَى مِائَةٍ، فَمَا يَقُولُ ذَاكَ، أَمَا وَاللَّهِ! إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُخْرِجُ مَسْأَلَتَهُ مِنْ عِنْدِي تَتَأَبَّطُهَا يَعْنِي تَكُونُ تَحْتَ إِبْطِهِ يَعْنِي نَارًا))، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لِمَ تُعْطِيهَا إِيَّاهُمْ؟ قَالَ: ((فَمَا أَصْنَعُ؟ يَا ابْنَ أُمَّ الْخَيْرِ إِلَّا ذَاكَ وَيَا ابْنِ أُمَّ الْخَيْرِ لَا يَبْخَلُ اللَّهُ لِي))۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں اور فلاں آدمی کو سنا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ِ خیر کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دو دینار دیئے تھے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم!فلاں آدمی تو اس طرح کا نہیں ہے، میں نے تو اسے دس سے سو دینار دیئے ہیں، لیکن اس نے تو (احسان مند ہونے کی اور اچھے کلمات کہنے کی) کوئی بات ہی نہیں کی۔ خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ تم میں سے ایک آدمی کا سوال مجھ سے کوئی مال نکال تو لیتا ہے، پھر بغل میں دبا کر چلا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اپنی بغل کے نیچے آگ دے رہا ہوتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے لوگوں کو دیتے کیوں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کیا کروں، وہ مانگنے سے باز نہیں آتے اور اللہ تعالیٰ مجھے بخل نہیں کرنے دیتا۔