حدیث نمبر: 3528
عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِي قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ فَقُلْتُ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ، أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ سَمْرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْمَسَائِلُ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ يَسْأَلَ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ یزید بن عقبہ فزاری کہتے ہیں: میں حجاج بن یوسف کے ہاں گیا اورکہا: اللہ تعالیٰ امیر کے احوال کی اصلاح فرمائے، کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک حدیث سناؤں جو مجھے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی ہے، اس نے کہا: جی ہاں۔ یزید نے کہا: میں نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنا خراش ہے، جس کے ذریعے بندہ اپنے چہرہ کو زخمی کرتا ہے،اب جو آدمی چاہتا ہے وہ اپنے چہرے کوبچا لے اور جو چاہتا ہے تووہ اسے چھوڑ دے۔ ہاں انسان کو چاہیے کہ وہ حکمران سے سوال کر لے یا کوئی ایسی ضرورت پوری کرنی ہو، جس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو۔

وضاحت:
فوائد: … (۱) یعنی سوال کر کے زخمی نہ کرے اور چہرہ زخموں سے محفوظ رکھے۔ (۲) یعنی سوال نہ کر کے چہرے پر جو رونق رہتی ہے اور چہرہ زخمی نہیں ہوتا اس کیفیت کو چھوڑے یعنی سوال کرے اور چہرہ زخمی کرے۔ (عون المعبود:۲/ ۳۹)۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3528
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1639، والترمذي: 681، والنسائي: 5/ 100، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20366»