حدیث نمبر: 3523
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَذْهَبَ إِلَى الْجَبَلِ فَيَحْتَطِبَ، ثُمَّ يَأْتِي بِهِ يَحْمِلُهُ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ فَيَأْكُلَ خَيْرٌ لَهُ، مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ، وَلَأَنْ يَأْخُذَ تُرَابًا فَيَجْعَلَهُ فِي فِيهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْعَلَ فِي فِيهِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی آدمی رسی لے کر پہاڑ کی طرف جائے اور وہاں سے لکڑیاں کاٹ کر اپنی پشت پر لاد کر لائے اور اسے فروخت کرکے کھائے، تو یہ اس کے حق میں لوگوں سے بھیک مانگنے کی بہ نسبت زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ کسی چیز کو منہ میں ڈالنے سے بہتر ہے کہ بندہ مٹی اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لے۔

وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ بندہ حلال کھانے کی کوشش کرے، اگرچہ وہ سالن کے بغیر جَو کی روٹی ہی ہو، مٹی کا ذکر بطورِ مبالغہ کیا گیا ہے، کیونکہ اس کو کھایا تو نہیں جاتا، رہا مسئلہ حرام کے کھانے کا تو وہ دل کو اندھا کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3523
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بالطرق، لكن قوله: ((ولأن ياخذ۔)) ضعيف بعنعنة محمد بن اسحاق المدلس۔ اخرجه البخاري: 1470، ومسلم: 1042 دون الجملة الاخيرة الضعيفة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7482»