حدیث نمبر: 3522
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ))، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَؤُلَاءِ بَنُو يَرْبُوعٍ قَتَلَةُ فُلَانٍ، قَالَ: ((أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى))، وَقَالَ أَبِي: قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ: ((يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے، تم پہلے اپنی ماں پر خرچ کرو، پھر باپ پر ، پھر اپنی بہن پر، پھر جس طرح قریبی بنتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو یربوع ہیں،یہ فلاں شخص کے قاتل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نفس دوسرے کے حق میں جرم نہیں کرے گا۔ ابو نضر نے اپنی حدیث میں کہا: میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: دینے والے کا ہاتھ بلند ہے۔

وضاحت:
فوائد: … دورِ جاہلیت میں قصاص لینے کے لیے قاتل کے بجائے اس کے قبیلے کے کسی بندے کو بھی قتل کر دیتے تھے، لگتا ہے کہ سائل اس قسم کی بات کرنا چاہتا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ردّ کر دیا کہ ہر مجرم اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے۔
’’سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو غِنٰی (یعنی ذاتی ضروریات پوری کرنے) کے بعد کیا جائے۔‘‘ اور’’ اپنے زیر کفالت افراد سے آغاز کیا جائے۔‘‘ ان دو جملوں سے مراد وہ خودساختہ پرتکلف زندگی نہیں ہے، جو اس وقت سرمایہ دار اور ان سے متأثر ہونے والے لوگوں کا معیار بن چکیہے، لوگوں کو ان کے مزاجوں نے اس قدر ستا رکھا ہے کہ ان کے گھروں کے اخراجات لاکھوں روپوں پر مشتمل ہیں۔ لیکن روایت کے مطابق ایک ماہ میں چار پانچ سو یا ایک ہزار روپے کا صدقہ کر لینے کو کافی سمجھتے ہیں، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مختلف عبادات کی مقدار کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ مقدار صدقہ و خیرات کی نظر آئے گی۔
ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے روحانی بیٹے بننے کو اعزاز سمجھیں،جنہوں نے مدینہ منورہ کے غریب مسلمانوں کو پینے کا پانی مہیا کرنے کے لیے بیس ہزار درہم کا بئر رومہ خریدا تھا، یہ (۵۲۴۰) تولے چاندی بنتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3522
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ اخرجه ابوداود: 4495 بلفظ مختلف منه وفيه: ((اما انه لا يجني عليك، ولا تجني عليه۔)) ، وأخرجه النسائي: 4832 بلفظ ابي داود المذكوره فقط ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7105»