الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْيَدِ الْعُلْيَا وَالْيَدِ السُّفْلَى باب: اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
حدیث نمبر: 3519
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ: ((فَأَعْطِ الْفَضْلَ وَلَا تَعْجَزْ عَنْ نَفْسِكَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: تم زائد چیز صدقہ کر دو اور اپنے نفس سے عاجز نہ آ جاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … ’’اپنے نفس سے عاجز نہ آ جاؤ‘‘اس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے آپ کو کنگال نہ کردو، بلکہ اپنی ذات سے متعلقہ اہم امور کے لیے کچھ سرمایہ بچا کر رکھو، وگرنہ اپنے زیرِ کفالت افراد کی کفالت کرنے سے بھی عاجز آ جاؤ گے اور لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانا پڑے گا۔