الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْيَدِ الْعُلْيَا وَالْيَدِ السُّفْلَى باب: اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
حدیث نمبر: 3516
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَالِ فَأَلْحَفْتُ، فَقَالَ: ((يَا حَكِيمُ! مَا أَكْثَرَ مَسْأَلَتَكَ! يَا حَكِيمُ! إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّهُ مَعَ ذَلِكَ أَوْسَاخُ أَيْدِي النَّاسِ، وَيَدُ اللَّهِ فَوْقَ يَدِ الْمُعْطِي، وَيَدُ الْمُعْطِي فَوْقَ يَدِ الْمُعْطَى وَأَسْفَلُ الْأَيْدِي يَدُ الْمُعْطَى))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور خوب اصرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حکیم! تم کس قدر کثرت سے سوال کر رہے ہو! اے حکیم! یہ مال دلکش اور دل پسند ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگوں کے ہاتھوں کی میل کچیل بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ دینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور لینے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ بندے کو دنیوی زندگی گزارنے کے لیے مختلف اسباب کی ضرورت تو ہے، لیکن وہ حسب ِ استطاعت محنت کر کے ان اسباب کو پورا کرنے کی کوشش کرے اور آزادانہ شب و روز کو گزارتے ہوئے کسی کے مال و دولت کی طرف حریصانہ نگاہ سے مت دیکھے۔ خدا نخواستہ اگر اسے دست ِ سوال پھیلانا پڑ جاتا ہے تو اس کو بھی اپنا حق سمجھ کر ضرورت پورا ہونے تک استعمال کرے اور اپنی عزت و غیرت میں کمی نہ آنے دے۔