الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْيَدِ الْعُلْيَا وَالْيَدِ السُّفْلَى باب: اوپر والے ہاتھ اور نیچے والے ہاتھ کا بیان
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعْ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى))۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیا، میں نے پھر سوال کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا مطالبہ پورا کر دیا، میں نے تیسری بار مطالبہ کر دیا، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دے دیا، لیکن یہ بھی فرمایا: یہ مال دلکش اور دل پسند چیز ہے، جو کوئی اس کو اس کے حق کے ساتھ لے گا، اس کے لیے اس میں برکت کی جائے گی اور جو شخص حریص بن کر اس کو لے گا، اس کے لئے اس میں برکت نہیں ہو گی، اوروہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھانا کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا، بہرحال اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔