حدیث نمبر: 3510
عَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ سَأَلَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا فَفَعَلَ وَخَتَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِدَفْعِهِ إِلَيْهِمَا، فَأَمَّا عُيَيْنَةُ فَقَالَ: مَا فِيهِ؟ فَقَالَ: ((فِيهِ الَّذِي أَمَرْتُ بِهِ فَقَبَّلَهُ))، وَعَقَدَهُ فِي عِمَامَتِهِ وَكَانَ أَحْكَمَ الرَّجُلَيْنِ، وَأَمَّا الْأَقْرَعُ فَقَالَ: أَحْمِلُ صَحِيفَةً لَا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ، فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ آخِرَ النَّهَارِ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ فَقَالَ: ((أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟)) فَابْتُغِيَ، فَلَمْ يُوْجَدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ، ثُمَّ ارْكَبُوهَا صِحَاحًا وَارْكَبُوهَا سِمَانًا كَالْمُتَسَخِّطِ أَنَفًا، إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ))، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ: ((مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ انصاری صحابی سیدناسہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عینہ اور اقرع دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ (ان کے علاقے کے عامل کے نام) ان کے حق میں کچھ لکھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے تحریر لکھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر مہر لگائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ تحریر ان کے سپرد کر دے۔ عیینہ نے پوچھا کہ اس میں لکھا ہوا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں وہی کچھ لکھا ہوا ہے جس کا میں نے حکم دیا۔ اس نے اس تحریر کا بوسہ لیا اور اس کو اپنی پگڑی میں باندھ لیا، وہ ان میں سے دانا اور عقلمند آدمی تھا۔ اقرع نے کہا: میں نے ایک تحریر اٹھائی ہوئی ہے، مجھے علم نہیں ہے کہ اس میں کیا لکھا ہے، یہ تو مُتَلَمِّس کے صحیفے کی طرح کی بات ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لے گئے، دن کے شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ایک ایسے اونٹ کے پاس سے ہوا، جسے مسجد کے دروازے پر بٹھایا گیا تھا،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے دن کے آخر میں گزرے تو وہ اونٹ اسی جگہ پر اسی طرح بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ اسے تلاش تو کیا گیا مگر وہ نہ ملا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان جانوروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ،جب تم ان پر سوار ہو تو یہ تندرست ہونے چاہئیں، پھر جب تم ان پر سواری کرو تو یہ موٹے تازے ہونے چاہئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ باتیں غصے کی حالت میں ارشاد فرمائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غنی کے باوجود مانگتا ہے، وہ جہنم کی آگ میں اضافہ کرتاہے۔ صحابہ نے کہا: کتنی چیز اسے کفایت کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چیز کی اتنی مقدار ہو کہ صبح اور شام کا کھانا بن جائے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں دو وقت کے کھانے یا اس کی قیمت کو غِنٰی کی مقدار قرار دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3510
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ اخرجه مختصرا ابوداود: 1629، 2548 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17775»