الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ نَهْيِ الْغَنِيِّ عَنِ السُّؤَالِ وَحَدِّ الْغِنَى - وَمَنْ لَا تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ باب: مالدار کو سوال سے منع کرنے، غِنٰی کی حد اور ان لوگوں کا بیان، جن کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ، أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَسْأَلَانِهِ الصَّدَقَةَ، قَالَ: فَرَفَعَ فِيهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَصَرَ وَخَفَضَهُ فَرَآهُمَا رَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ، فَقَالَ: ((إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا مِنْهَا وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ))۔ عبید اللہ بن عدی کہتے ہیں: دو صحابہ نے مجھے بتلایا کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور صدقہ کا سوال کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ان کو دیکھنے کے لیے) ان کی طرف نظر اٹھائی اور پھر اسے نیچے کی طرف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ دونوں مضبوط اور قوی آدمی ہیں،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں صدقہ میں سے کچھ دے دیتا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی مال دار اور کما سکنے والے قوی آدمی کا صدقہ میں کوئی حصہ نہیں ہے۔