الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ نَهْيِ الْغَنِيِّ عَنِ السُّؤَالِ وَحَدِّ الْغِنَى - وَمَنْ لَا تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ باب: مالدار کو سوال سے منع کرنے، غِنٰی کی حد اور ان لوگوں کا بیان، جن کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَأَتَيْتُهُ فَقَعَدْتُّ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَنِي فَقَالَ: ((مَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ، وَمَنِ اسْتَكْفَى كَفَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ))، قَالَ: فَقُلْتُ: نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ مَعِي خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَةٍ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز مانگ کر لے آؤں، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ کر وہاں بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: جو غنی ہونا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، جو (لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے) سے پاکدامنی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ سے پاکدامن بنا دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ سے کفایت چاہی، اللہ تعالیٰ اسے کفایت کرے گا اور اگر ایک اوقیہ کی قیمت کا مالک سوال کرے گا تو وہ اصرار کے ساتھ سوال کرے گا (جو اس کا حق نہیں ہے)۔ یہ سن کر سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سوچا کہ میری یاقوتہ اونٹنی ایک اوقیہ سے بہتر ہے، اس لیے میں لوٹ گیا اور سوال نہیں کیا۔