الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ نَهْيِ الْغَنِيِّ عَنِ السُّؤَالِ وَحَدِّ الْغِنَى - وَمَنْ لَا تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ باب: مالدار کو سوال سے منع کرنے، غِنٰی کی حد اور ان لوگوں کا بیان، جن کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3505
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أُوقِيَةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو اسد کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک اوقیہ یا اس کے مساوی چیز کا مالک ہو اور وہ سوال کرے تو (اس کا مطلب یہ ہو گا کہ) اس نے اصرار کے ساتھ اور چمٹ کر سوال کیا (جو اس کا حق نہیں ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … اصرار کے ساتھ سوال نہ کرنا اچھے لوگوں کی صفت ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لِلْفُقَرَآئِ الَّّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِیْ الْاَرْضِ یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ لَایَسْاَلُوْنَ النَّاسَ إِِلْحَافًا وَّمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍفَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖعَلِیْمٌ۔} (سورۂ بقرہ: ۲۷۳) …
’’صدقات کے مستحق صرف وہ غرباء ہیں، جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو زمین میں چل پھر نہیں سکتے، نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہنچان لیں گے، وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کو پوری طرح جاننے والا ہے۔‘‘ (۴۰) درہموں کا ایک اوقیہ ہوتا ہے، یہ تقریباً (۱۰) تولے چاندی بنتی ہے۔
’’صدقات کے مستحق صرف وہ غرباء ہیں، جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو زمین میں چل پھر نہیں سکتے، نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہنچان لیں گے، وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کو پوری طرح جاننے والا ہے۔‘‘ (۴۰) درہموں کا ایک اوقیہ ہوتا ہے، یہ تقریباً (۱۰) تولے چاندی بنتی ہے۔