الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ نَهْيِ الْغَنِيِّ عَنِ السُّؤَالِ وَحَدِّ الْغِنَى - وَمَنْ لَا تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ باب: مالدار کو سوال سے منع کرنے، غِنٰی کی حد اور ان لوگوں کا بیان، جن کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3502
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُدُوشًا أَوْ كُدُوشًا فِي وَجْهِهِ))، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا غِنَاهُ؟ قَالَ: ((خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ حِسَابُهَا مِنَ الذَّهَبِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مانگنے سے مستغنی ہونے کے باوجود مانگتا ہے ،وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر خراشیں ہوں گی۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! غِنٰی کی حد کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کے برابر سونا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں (۵۰) درہموں کو غِنٰی کی حد قرار دیا گیا ہے، یہ تقریباً (۱۲، ۱۳) تولے چاندی بنتی ہے۔