حدیث نمبر: 3479
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ رَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ غَارِمٍ أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ مِنْهَا فَأَهْدَى مِنْهَا لِغَنِيٍّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غنی لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں ہے، مگر ان پانچ افراد کے لیے: عاملِ زکوۃ، زکوۃ کے مال کو اپنے مال کے عوض خریدنے والا، چٹی بھرنے والا (یعنی کسی کی طرف سے ادائیگی کا ذمہ لینے والا) ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا اور وہ غنی آدمی کہ زکوۃ لینے والا مسکین جس کو کوئی تحفہ دے دے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ ضروری نہیں کہ چٹی بھرنے والے اپنے مال سے ہی ادائیگی کرے، کیونکہ اس معاملے میں اس کی ذات کاکوئی دخل نہیں ہوتا، اس لیے وہ ایسے بوجھ اتارنے کے لیے زکوۃ بھی لے سکتا ہے اور سوال بھی کر سکتا ہے۔ آل محمد سے تعلق رکھنے والا عامل، زکوۃ سے تنخواہ نہیں لے سکتا، اگلے باب میں اس کی وضاحت آرہی ہے۔
قرآن مجید میںکل آٹھ مصارفِ زکوۃ بیان کیے گئے ہیں، اس باب سے معلوم ہوا کہ چٹی بھرنے والا بھی زکوۃ وصول کر کے اپنی ذمہ داری کو ادا کرسکتا ہے، سوال یہ ہے کہ ایک آدمی زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام مصارف میں خرچ کرے یا کسی ایکمصرف میں کرنے سے اس کا فرض ادا ہو جائے؟ مؤخر الذکر مسلک راجح ہے، کئی احادیث اور آثار سے ثابت ہے کہ صرف ایک ایک صنف میں بھی زکوۃ خرچ کی جاتی رہی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3479
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ اخرجه ابوداود: 1635، 1636، وابن ماجه: 1841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11559»