حدیث نمبر: 3478
عَنْ أُمِّ مَعْقِلٍ الْأَسَدِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ زَوْجَهَا جَعَلَ بَكْرًا لَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَّهَا أَرَادَتِ الْعُمْرَةَ فَسَأَلَتْ زَوْجَهَا الْبَكْرَ فَأَبَى، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ))، وَقَالَ: ((عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً أَوْ تُجْزِئُ حَجَّةً))، وَقَالَ حَجَّاجٌ: ((تَعْدِلُ بِحَجَّةٍ أَوْ تُجْزِئُ بِحَجَّةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام معقل اسدیہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں:میرے شوہر نے ایک جوان اونٹ اللہ کی راہ کے لئے وقف کر دیا، جبکہ میں عمرہ کے لئے جانا چاہتی تھی، اس لیے میں نے اپنے شوہر سے وہ اونٹ طلب کیا، لیکن اس نے دینے سے انکار کر دیا۔ جب میں نے اس بات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرےشوہر کو حکم دیا کہ وہ اونٹ مجھے دے دے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ بھی اللہ کی راہ میں ہی ہے۔ نیز فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِہَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … ’’جی ہاں، عورتوں پر جہاد ہے، لیکن اس میں قتال نہیں ہے، یعنی حج اور عمرہ۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲۹۰۱) معلوم ہوا کہ حج اور عمرہ پر بھی فی سبیل اللہ کا اطلاق کیاجا سکتا ہے۔
رمضان میں عمرہ کرنے سے حج کا ثواب ملے گا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر اس عمرہ کرنے والے پر حج بھی فرض تھا تو اس عمرہ سے اس کے حج کی ادائیگی تصور ہوگی۔ ثواب ملنا اور چیز ہے اور فرض کا ادا ہو جانا چیزے دیگر۔ جیسے کوئی آدمی جماعت کے ساتھ نماز پڑھے تو اسے پچیسیا ستائیس گنا ثواب ملے گا۔ لیکن اس کا یہ نتیجہ نہیں کہ اس کے آئندہ پانچ دن کی نمازیں ادا ہوگئیں ہیں، اسے اب اتنے دن نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں، نہیں ہرگز نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3478
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «المرفوع منه صحيح لغيره، لكن ذكر لفظ ’’العمرة‘‘ منكر علي كل حال۔ اخرجه ابوداود: 1988، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27829»