حدیث نمبر: 3477
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَى لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مال دار کے لئے زکوۃ لینا حلال نہیں ہے، مگر تین افراد کے لیے: جہاد کرنے والا، مسافر اور وہ (غنی) آدمی کہ اس کے پڑوسی کو زکوۃ دی گئی اور اس نے اپنے پڑوسی کو کوئی تحفہ دے دیا۔ــ

وضاحت:
فوائد: … حدیث اپنے مفہوم میں واضح ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ زکوۃ کا مال کھاتے ہیں، ان کی دعوت اور تحفہ قبول کیا جا سکتا ہے، بعض مالدار لوگوں کو دیکھا گیا کہ وہ زکوۃ کا مال سمجھ کر ان چیزوں سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ ایسی دعوت اور تحفے پر زکوۃ کا حکم نہیں لگایا جا سکتا، کیونکہ مستحق آدمی زکوۃ کے مال کا مالک بن جاتا ہے اور وہ جہاں مرضی خرچ کر سکتا ہے۔ مسافر کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی مالدار ہے، لیکن سفر میں کچھ وجوہات کی بنا پر اس کے اسباب ِ سفر ختم ہوجاتے ہیں، اب بجائے اس کے کہ وہ اپنا سفر پورا کرنے کے لیے کسی سے قرضہ لینے کی کوشش کرے، اسے چاہیے کہ اگر کہیں زکوۃ مل سکتی ہے تو ظن غالب کے مطابق اتنی مقدار میں لے لے، جو اسے سفر میں کفایت کرے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3477
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن ابي ليلي وعطية۔ اخرجه ابوداود: 1637، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11288»