حدیث نمبر: 3476
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ))، قَالَ: فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خُذُوا مَا وَجَدْتُّمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے پھل خریدے، لیکن وہ کسی آفت میں مبتلا ہو گیا اور اس کا قرض بہت زیادہ ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اس پر صدقہ کرو۔ چنانچہ لوگوں نے اس پر صدقہ تو کیالیکن اس سے اس کا قرضہ پورا نہ ہو سکا۔بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (قرض خواہوں سے) فرمایا: جو مال تم نے اس کے پاس پا لیا ہے، وہ لے لو، اور تمہیں صرف یہی ملے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی مقروض مفلس اور کنگال ہو جاتا ہے اور زکوۃ سے بھی اس کا تعاون کرنے والا کوئی نہیں ہے تو اس کے قرض خواہ دنیا میں محروم ہو جائیں گے، آخرت کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے کہ مقروض آدمی قرضہ واپس کرنے کی رغبت رکھتا تھا یا نہیں اور قرض خواہ معاف کرتے ہیںیا نہیں، بہرحال ایسا مقروض دوسروں کا حق لے کر فوت ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ زکوۃ کا ایک مصرف مقروض لوگ بھی ہیں، تین قسم کے لوگ اس مصرف کا مصداق بن سکتے ہیں: (۱) وہ مقروض جو اپنے اہل و عیال کے نان و نفقہ اور ضروریات زندگی فراہم کرنے میں لوگوں کے زیر بار ہو گئے اور ان کے پاس نقد رقم بھی نہیں ہے اور ایسا سامان بھی نہیں ہے، جسے بیچ کر وہ قرض ادا کر سکیں۔
(۲) وہ ذمہ دار اصحاب ِ ضمانت ہیں، جنہوں نے کسی کی ضمانت دی اور پھر وہ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار قرار پا گئے۔
(۳) وہ لوگ کہ جن کی فصلیں تباہ ہو جائیںیا کاروبار خسارے کا شکار ہو گیا اور اس بنیاد پر وہ مقروض ہو گیا۔ ان سب افراد کی زکوۃ کی مدّ سے مدد کرنا جائز ہے۔
(۲) وہ ذمہ دار اصحاب ِ ضمانت ہیں، جنہوں نے کسی کی ضمانت دی اور پھر وہ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار قرار پا گئے۔
(۳) وہ لوگ کہ جن کی فصلیں تباہ ہو جائیںیا کاروبار خسارے کا شکار ہو گیا اور اس بنیاد پر وہ مقروض ہو گیا۔ ان سب افراد کی زکوۃ کی مدّ سے مدد کرنا جائز ہے۔