الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ باب: ان لوگوں کا بیان، جن کو تالیف ِ قلبی کے لیے زکوۃ دی جاتی ہے
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا عَنِ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ فَأَمَرَ لَهُ بِشَائٍ كَثِيرٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ مِنْ شَاءِ الصَّدَقَةِ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: يَا قَوْمِ! أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي عَطَاءً مَا يَخْشَى الْفَاقَةَ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام کے نام پر کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دے دیتے تھے،ایک دن ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی کو بھر دینے والی زکوۃ کی بہت زیادہ بکریاں اسے دے دیں، جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹا تو اس نے کہا: اے میری قوم! مسلمان ہو جاؤ، بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر سخاوت کرتے ہیں کہ انہیں اپنے فاقے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔