حدیث نمبر: 3463
عَنْ أَبِي مَوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِينَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا، طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس دیانت دار خزانچی کو جو حکم دیا جائے، اگر وہ اسی کے مطابق اور نفس کی خوشی کے ساتھ پوری طرح اس شخص کو دے دے، جس کا اسے کہا گیا تھا، تو وہ دو صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … خزانچی لوگوں کو چاہیے کہ وہ ’’مدعی سست اور گواہ چست‘‘ والا معاملہ نہ کریں، بلکہ مالکان کی طرف خیر و بھلائی کے امور میں خرچ کرنے کا ان کو جو حکم دیا جائے وہ اس پر عمل گزریں اور ان کی خوشامد کرتے ہوئے اور اپنے آپ کو بڑا خیرخواہ ثابت کرنے کے لیے ان کو بخل کی تجویز نہ دیں۔
ایک اصل صاحب مال اور دوسرا خزانچی۔ گویا اگرچہ خزانچی اپنی جیب سے مال نہیں خرچ کر رہا، لیکن خوش دلی سے اور مالک کی ہدایات کے مطابق مال دینے کی وجہ سے صاحب مال کی طرح اجر وثواب کا حق دار ہے۔ یہ معنی اس وقت ہے جب ’’المتصدقین‘‘ پڑھا جائے اگر جمع کا لفظ ہو (المتصدقین) تو معنی ہوگا وہ صدقہ کرنے والوں میں سے ایک صدقہ کرنے والا ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3463
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1438، 3219، ومسلم: 1023، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19741»