حدیث نمبر: 3459
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا عِنْدَكَ شَيْءٌ؟)) فَأَتَاهُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ يَشْتَرِي هَذَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ، فَقَالَ: ((مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟)) فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ، فَقَالَ: ((هُمَا لَكَ))، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثٍ: ذِي دَمٍ مُوْجِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اپنی ضرورت کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس کوئی چیز نہیں ہے؟ پس وہ ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں کون خریدے گا؟ ایک صحابی نے کہا: میں ایک درہم کے عوض خریدوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ہے جو ایک درہم سے زیادہ قیمت لگائے گا؟ لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: کوئی ایسا آدمی ہے جو ایک درہم سے زائد قیمت لگائے گا؟ ایک آدمی نے کہا: جی میں یہ چیزیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) یہ تمہاری ہو گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنا صرف تین افراد کے لیے حلال ہے: کسی مقتول کی تکلیف دہ دیت ادا کرنے والا، بہت زیادہ مقروض اور بہت زیادہ فقیر۔

وضاحت:
فوائد: … سنن ابی داود کی روایت میں یہ تفصیل بھی موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اِن دو درہموں کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک درہم کا کھانے خرید کر اپنے گھر والوں کو دے دے اور دوسرے درہم کا کلہاڑا خرید کر لائے، اس نے ایسا ہی کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں دستہ ڈالا اور اسے فرمایا: ’’جا اور لکڑیاں کاٹ کر بیچنا شروع کر دے اور میں تجھے پندرہ دن نہ دیکھنے پاؤں۔‘‘ وہ چلا گیا اور ان ہدایات کے مطابق کام کرتا رہا، جب وہ واپس آیا تو وہ دس درہموں کا مالک بن چکا تھا، پھر اس نے بعض درہموں سے کپڑے خریدے اور بعض سے کھانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کییہ صورتحال دیکھ کر فرمایا: ’’یہ کام تیرے لیے اس سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن تو اس حال میں آتا کہ لوگوں سے مانگنے کا نکتہ اور نشان تیری چہرے پر ہوتا، سوال کرنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے جائز ہے: …۔‘‘ ’’کسی مقتول کی دیت ادا کرنے والا‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی آدمییہذمہ داری اٹھا لیتا ہے کہ وہ قاتل کی طرف سے مقتول کی دیت اس کے لواحقین کو ادا کرے گا، لیکن بعد میں اس کا اہتمام کرنا اس کے بس کی بات نہیں رہتی، سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے۔ اِس اور اِس موضوع کی دیگر شرعی نصوص کا تقاضا یہ ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوال کرنا ناجائز ہے، ہر شخص کو چاہیے کہ وہ حسب ِ استطاعت اس سے گریز کرے، احادیث ِ مبارکہ اس میں بھیک مانگنے کی بڑی مذمت کی گئی ہے، الا یہ کہ کسی کی شرعی مجبوری ہو، لیکن ایسے مجبور کو بار بار سوچنا چاہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا عذر مقبول ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3459
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لجھالة حال ابي بكر الحنفي، لكن قوله: ((ان المسألة لا تحل ۔)) صحيح بالشواھد۔ اخرجه ابوداود: 1641، وابن ماجه: 2198، والترمذي: 1218 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12158»