الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْفَقِيرِ الْمِسْكِينِ باب: فقیر اور مسکین کا بیان
حدیث نمبر: 3458
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’نہ گھومنے والا مسکین ہے اور نہ وہ مسکین ہے جس کو ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے واپس کر دیں، بلکہ مسکین تو بچنے والا ہے، یعنی جو لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتا اور نہ اس کی مسکینی کو سمجھا جا سکتا ہے کہ اس پر صدقہ کیا جائے۔‘‘
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مسکین وہ ہوتا ہے جو نہ تو اتنے مال کا مالک ہو کہ وہ اسے کفایت کر سکے، نہ ا س کی حالت ایسی ہو کہ لوگ اس کی مسکینی کو پہچان سکیںاور نہ وہ لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ یہ اصل اور کامل مسکین کی تعریف ہے۔ رہا مسئلہ فقیر کا تو اس کے بارے میں کہنا چاہیے کہ جو شخص غنی نہ ہو، یعنی کفایت کرنے والی چیزوں کا مالک نہ ہو، وہ فقیر ہو گا۔ غنی کی مقدار کا بیان حدیث نمبر (۳۵۰۲) میں آ رہا ہے۔ عام فہم انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فقیر اور مسکین دونوں کے مفہوم میں یہ بات تو قطعی ہے کہ جو حاجت مند ہوں اور اپنی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم اور وسائل سے محروم ہوں، ان کو فقیر اور مسکین کہا جاتا ہے۔ ان احادیث کا یہ مفہوم بیان نہیں کیا جا سکتا کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرے، اسے کچھ نہیں دیا جا سکتا، اصل میں اس آدمی کو سوال کرنے اور زکوۃوصول کرنے کی گنجائش ہے، جس کی آمدن اس کے جائز اخراجات پوری نہ کر رہی ہو، ہاں اگر وہ صبر کرتے ہوئے سوال کرنے سے بچا رہے تو اس میں اس کی برتری ہو گی۔
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مسکین وہ ہوتا ہے جو نہ تو اتنے مال کا مالک ہو کہ وہ اسے کفایت کر سکے، نہ ا س کی حالت ایسی ہو کہ لوگ اس کی مسکینی کو پہچان سکیںاور نہ وہ لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ یہ اصل اور کامل مسکین کی تعریف ہے۔ رہا مسئلہ فقیر کا تو اس کے بارے میں کہنا چاہیے کہ جو شخص غنی نہ ہو، یعنی کفایت کرنے والی چیزوں کا مالک نہ ہو، وہ فقیر ہو گا۔ غنی کی مقدار کا بیان حدیث نمبر (۳۵۰۲) میں آ رہا ہے۔ عام فہم انداز میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فقیر اور مسکین دونوں کے مفہوم میں یہ بات تو قطعی ہے کہ جو حاجت مند ہوں اور اپنی حاجات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم اور وسائل سے محروم ہوں، ان کو فقیر اور مسکین کہا جاتا ہے۔ ان احادیث کا یہ مفہوم بیان نہیں کیا جا سکتا کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرے، اسے کچھ نہیں دیا جا سکتا، اصل میں اس آدمی کو سوال کرنے اور زکوۃوصول کرنے کی گنجائش ہے، جس کی آمدن اس کے جائز اخراجات پوری نہ کر رہی ہو، ہاں اگر وہ صبر کرتے ہوئے سوال کرنے سے بچا رہے تو اس میں اس کی برتری ہو گی۔