حدیث نمبر: 3456
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ أَوِ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ، اقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ {لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (چوتھی سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے کہ جس کو ایک دو دو کھجوریں اور لقمے واپس کر دیں، مسکین تو صرف اور صرف وہ ہے جو (لوگوں سے) سوال کرنے سے بچے، اگر تم چاہتے ہوتو یہ آیت پڑھ لو: وہ لوگوں سے اصرار کے ساتھ سوال نہیں کرتے۔

وضاحت:
فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {لِلْفُقَرَآئِ الَّّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِیْ الْاَرْضِ یَحْسَبُھُمُ الْجَاھِلُ اَغْنِیَآئَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُھُمْ بِسِیْمٰھُمْ لَایَسْاَلُوْنَ النَّاسَ إِِلْحَافًا وَّمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖعَلِیْمٌ۔} (سورۂ بقرہ: ۲۷۳) … ’’صدقات کے مستحق صرف وہ غربا ہیں، جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو زمین میں چل پھر نہیں سکتے، نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہنچان لیں گے، وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3456
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9129»