حدیث نمبر: 3452
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا وَلَمْ يُعْطِ رَجُلًا مِنْهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَلَمْ تُعْطِ فُلَانًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَوْ مُسْلِمٌ))، حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلَاثًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَوْ مُسْلِمٌ))، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّي لَأُعْطِي رِجَالًا وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُمْ فَلَا أُعْطِيهِ شَيْئًا مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی لوگوں کو مال دیا اور ان میں سے ایک فرد کو کچھ نہیں دیا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی ! آپ نے فلاں فلاں کو تو مال دیا ہے، مگر فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا، حالانکہ وہ بھی تو مومن ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا وہ مسلمان نہیں ہے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی فرماتے رہے کہ کیا وہ مسلمان نہیں ہے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ میں بہت سے لوگوں کو عطیات دیتا ہوں اور ان میں سے جو مجھے زیادہ محبوب ہوتا ہے، اسے کچھ نہیں دیتا، مبادا کہ دوسرے لوگ (عطیہ نہ ملنے کی وجہ سے) چہروں کے بل جہنم میں جا پڑیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افضل و اعلی لوگوں کو چھوڑ کر دوسرے عام لوگوں میں اموال تقسیم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ان کا خیالیہ تھا کہ کم یا زیادہ حصے کا دارومدار دین میں برتری پر ہے، نیز وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن لوگوں کو چھوڑ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی افضیلت کا علم نہیں ہے، اس لیے جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایسے لوگوں کی نشاندہی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’یا وہ مسلمان ہے؟‘‘ لیکن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ یہ نہ سمجھ سکے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اس قسم کی سفارش سے منع کرنا چاہتے ہیں، اس لیے تین دفعہ تکرار ہو جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کی کہ تقسیم کا انحصار دین میں برتری پر نہیں ہے۔ جب کسی مقام پر ایمان اور اسلام کو فرق کے ساتھ پیش کیا جائے تو اسلام کا تعلق ظاہری اطاعت سے ہوتا ہے اور ایمان کا باطنی اطاعت سے، اس مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کہہ کر کہ ’’یا وہ مسلمان ہے؟‘‘یہ سبق دینا چاہتے ہیں کہ کسی کے ایمان کا قطعی فیصلہ نہیں کر دینا چاہیے، کیونکہ اس کے باطن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، ذہن نشین کر لیناچاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایمان کی نفی نہیںکر رہے، بلکہ کسی کے ایمان کے بارے میں قطعی فیصلہ کر دینے سے منع کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیتقسیم کا دارومدار اس امر پر ہوتا تھا کہ اسلام کا زیادہ فائدہ کس میں ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافروں تک کو مال کی بڑی مقدار اس لیے عطا کر دیتے تھے کہ ممکن ہے کہ یہ لوگ اس احسان کی وجہ سے مسلمان ہو جائیں اور واقعۃً ایسے ہوا بھی، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو مسلموں اور ضعیف الاسلام لوگوں کو قدیم اور راسخ الایمان صحابہ پر ترجیح دیتے تھے۔ اس مقام پر ہم بڑے دکھ اور ارمان کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس وقت تقسیمِ مال کے اس سلسلے میں امت ِ مسلمہ کے مسئولین مکمل طور پر طرزِ نبوی سے منحرف ہو چکے ہیں، الا ما شاء اللہ۔اس وقت مساجد، مدارس، دفاتر، خیراتی اداروں کی عمارتوں، ان کے دفتروں کی تعمیر پر اور ان میں استعمال ہونے والے فرنیچر پراور ان کو خوبصورت سے خوبصورت تر بنانے پر بھاری سرمایہ خرچ کیا جا رہا ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سنہری دور میں مال کا مصرف صرف اور صرف شخصیت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں مدینہ منورہ میں سب سے اہم مقام مسجد ِ نبوی تھی، جو صرف جائے نماز نہیں تھی، بلکہ مسلمانوں کی ہدایت، سیاست اور قیادت کا مرکز تھی، لیکن جب اس کی تعمیر ہونے لگی تھی تو اعتدال کے علم بردار، حکمتوں سے معمور اور لوگوں کی امانتوں کے امین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا: ((اِبْنُوْہُ عَرِیْشاً کَعَرِیْشِ مُوْسٰی۔)) ’’موسیٰ علیہ السلام کے چھپر کی طرح اس کو تعمیر کر دو۔‘‘ لیکن آج خدمت ِ اسلام کی بنیاد خوبصورت عمارت پر ہے، عصرِ حاضر میں غریبوں اور مسکینوں کا پرسانِ حال کوئی نہیں رہا، جس ادارے کا رقم کی صورت میں تعاون کیا جائے، وہ صرف اس سوچ کا پابند ہو کر رہ گیا ہے کہ اس مال کو دیواروں پر کیسے ’’تھوپا‘‘ جائے یا پھر ادارے کی توسیع اور خود کفالت کا مسئلہ کھڑا کیا ہے جائے گا، یہ اس دور والوں کا طرزِ نبوی سے انحراف اور بے اعتدالی کی بڑی قسم ہے۔