الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ جَوَازِ إِعْطَاءِ قَوْمٍ وَحِرْمَانِ آخَرِينَ لِمَصْلَحَةٍ يَرَاهَا الْإِمَامُ باب: حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِي فَجَعَلَ يَفْرِضُ لِلرَّجُلِ مِنْ طَيِّئٍ فِي أَلْفَيْنِ وَيُعْرِضُ عَنِّي، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ حِيَالِ وَجْهِهِ فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: فَضَحِكَ حَتَّى اسْتَلْقَى لِقَفَاهُ ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَعْرِفُكَ، آمَنْتَ إِذْ كَفَرُوا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا وَوَفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا، وَإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ عَدِيٍّ جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَخَذَ يَعْتَذِرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِهِمُ الْفَاقَةُ وَهُمْ سَادَةُ عَشَائِرِهِمْ لِمَا يَنُوبُهُمْ مِنَ الْحُقُوقِ۔ سیدناعدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ہمراہ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے بنو طیٔ کے ہر ہر فرد کو دو دو ہزار دیئے اورمجھ سے اعراض کیا، پھر میں ان کے سامنے آیا، لیکن انھوں نے بے رخی اختیار کی، پھر میں بالکل ان کے چہرہ کے سامنے آیا، تب بھی انہوں نے مجھ سے اعراض کیا، بالآخر میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پہچانتے ہیں؟یہ بات سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس قدر ہنسے کہ گدی کے بل لیٹ گئے اور پھر فرمایا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں تمہیں پہچانتا ہوں، تم اس وقت ایمان لائے تھے جب یہ لوگ کفر پر ڈٹے ہوئے تھے، تم اس وقت اسلام کی طرف متوجہ ہوئے تھے جب ان لوگوں نے پیٹھ کی ہوئی تھی اور تم نے اس وقت وفاداری دکھائی جب یہ لوگ غداری کر رہے تھے، اور میں جانتا ہوں کہ سب سے پہلا صدقہ، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے چہرے روشن کر دیئے تھے، وہ تو عدی کا صدقہ تھا، جو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آئے تھے، بعد ازاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عدی سے معذرت کی اور کہا: میں نے ان لوگوں کو اس لئے دیا ہے کہ یہ لوگ آج کل فاقوں سے دو چار ہیں، جبکہ یہ اپنے اپنے قبیلوں کے سردار بھی ہیں اور ان پر کافی ساری ذمہ داریاں ہیں۔