حدیث نمبر: 3450
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَغَيْرُ هَؤُلَاءِ أَحَقُّ مِنْهُمْ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي بَيْنَ أَنْ يَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ أَوْ يُبَخِّلُونِي، فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چیز تقسیم کی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن لوگوں کو دیا ہے، ان کی بہ نسبت تو دوسرے لوگ زیادہ حق دار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے مجھے یوں اختیار دیا ہے کہ وہ یا تو مجھ سے ناروا انداز سے طلب کریں گے یا پھر مجھے بخیل کہیں گے، جبکہ میں بخیل نہیں ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں کی بہ نسبت واقعی زیادہ مستحق تو نہیں تھے، لیکن اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو نہ دیتے تو انھوں نے نازیبا انداز میں گفتگو کر کے اصرار کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کرنا تھا اور اگر پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو نہ دیتے تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخیل کہہ دینا تھا۔ معلوم ہوا کہ جاہل اور سخت طبیعت لوگوں سے نرمی اور دلجوئی کا معاملہ کرنا چاہیے اور ان کی تالیف ِ قلبی کرنی چاہیے، کیونکہ اس میں مصلحت زیادہ ہے، بہرحال اس معاملے میں حاکم وقت کو اختیار ہے کہ وہ اسلام کی بڑی منفعتوں کو سامنے رکھ کر تقسیم کار کا کوئی طریقہ بھی اختیار کر سکتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا مقصد واضح اور اسلام کی نظر میں قابل تعریف ہو، عصرِ حاضر میں اس معاملے میں حکمران طبقہ راہِ عدل و انصاف سے بہت دور جا چکا ہے۔
مطلبیہ ہے کہ میں بخیل نہیں ہوں اور میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ لوگ مجھ سے اصرار کے ساتھ سوال کریں اور نہ ملنے پر ترش کلامی اور فحش گوئی پر اتر آئیں۔ اس لیے بہت زیادہ حقدار نہ ہونے کے باوجود میں ان کو مال دے دیتا ہوں۔ (بلوغ المانی)۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3450
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 234 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 234»