الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ كَرَاهَةِ تَيَمُّمِ الْخَبِيثِ وَدَفْعِهِ فِي الصَّدَقَةِ وَفَضْلِ الصَّدَقَةِ بِالطَّيِّبِ باب: حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
حدیث نمبر: 3449
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَصَدَّقَ بِعِدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ إِلَّا الطَّيِّبُ فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُهَا بِيَمِينِهِ ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی حلال کمائی میں سے ایک کھجور کے بقدر صدقہ کرتا ہے، اور حلال چیز ہی اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں قبول کرتا ہے اور اسے مالک کے لئے یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسےتم میں سے کوئی اپنے گھوڑی کے بچے کی پرورش کرتا ہے، حتی کہ ایک کھجور ایک پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان نصوص میں پاکیزہ کمائی سے صدقہ کرنے کی اہمیت کا بیان ہے کہ کھجور کے ایک ایک دانے کا اجر پہاڑوں کی مانند ہو گا۔