الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ كَرَاهَةِ تَيَمُّمِ الْخَبِيثِ وَدَفْعِهِ فِي الصَّدَقَةِ وَفَضْلِ الصَّدَقَةِ بِالطَّيِّبِ باب: حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
حدیث نمبر: 3448
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا وَلَا يَصْعَدُ السَّمَاءَ إِلَّا طَيِّبٌ إِلَّا وَهُوَ يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ أَوْ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَلُوَّهُ حَتَّى إِنَّ التَّمْرَةَ لَتَكُونُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندۂ مومن حلال کمائی میں سے جو صدقہ کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ حلال چیز کو ہی قبول کرتا ہے اور حلال ہی آسمان کی طرف چڑھتا ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اپنے ہاتھ میں لے کر یوں بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑی کے بچے کو پا لتا ہے، یہاں تک کہ ایک کھجور بڑے پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔