الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
فَصْلٌ مِنْهُ فِي إِرْضَاءِ الْمُصَدِّقِ باب: زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! يَأْتِينَا نَاسٌ مِنْ مُصَدِّقِيكَ يَظْلِمُونَنَا، قَالَ: ((أَرْضُوا مُصَدِّقَكُمْ))، قَالُوا: وَإِنْ ظَلَمَ؟ قَالَ: ((أَرْضُوا مُصَدِّقَكُمْ))، قَالَ جَرِيرٌ: فَمَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ۔ سیدناجریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:کچھ بدو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا:اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زکوٰۃ کے نمائندے (زکوۃ کی وصولی کے سلسلے میں) ہم پر زیادتی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم انہیں راضی کیا کرو۔ ان لوگوں نے کہا: خواہ وہ ظلم ہی کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس تم انہیں راضی کیا کرو۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے، زکوٰۃ کا نمائندہ مجھ سے راضی ہی گیاہے۔
(۲) حقیقت میں ظلم سے مراد ظلم ہی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نصیحت فرمائی کہ ایسے معاملات میں رعایا کو چاہیے کہ زکوۃ وصول کرنے والے سرکاری عامل کے مقدار و معیار کا لحاظ رکھے، ان کے ساتھ مناقشہ نہ کیا جائے، بلکہ ان کے ساتھ نرمی کی جائے اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے۔ پچھلے باب میںمذکورہ احادیث سے دوسری تاویل کی تائید ہوتی ہے۔
قَالَ: وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ))۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نرمی سے محروم ہے، وہ (ہر) خیر سے محروم ہے۔