حدیث نمبر: 3441
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: ((كَذَا وَكَذَا))، قَالَ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ، قَالَ: فَنَظَرُوا فَوَجَدُوا هُ قَدْ تَعَدَّى عَلَيْهِ بِصَاعٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((فَكَيْفَ بِكُمْ إِذَا سَعَى مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی نے آ کر دریافت کیا: اتنے مال کی زکوٰۃ کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنی اتنی۔ اس نے کہا: تو پھر فلاں آدمی نے مجھ پر زیادتی کی اور مجھ سے زیادہ زکوۃ وصول کی۔ پھر جب انھوں نے پڑتال کی تو دیکھا کہ اس نے واقعی ایک صاع کی مقدار زیادتی کی تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہارے حکمران تم پر اس سے بڑھ کر زیادتی کریں گے۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاملین، عدل و انصاف اور حکم نبوی کے پابند تھے، ماپ تول کی وجہ سے ایک صاع کی کمی بیشی کا فرق آ سکتا ہے، یقینا اتنی مقدار کو زیادتی نہیں کہا جا سکتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنے والے امراء کے بارے میں جو پیشین گوئی کی ہے، وہ تو اس طرح پوری ہوئی کہ حکمران طبقے نے واضح طور پر ناجائز صورتوں کے ذریعے عوام کا روپیہ پیسہ بٹورنا شروع کر دیا اور ٹیکسوں اور دوسرے مختلف ناموں کے ذریعے اپنے رعایا کے مال و دولت کے ساتھ برا سلوک کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3441
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «القاسم بن عوف الشيباني ضعيفيعتبر به في المتابعات والشواھد فقط۔ أخرجه مطولا ابن خزيمة: 2336، وابن حبان: 3193، والحاكم: 1/ 404، والبيھقي: 4/ 137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27109»