حدیث نمبر: 3438
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ وَتَرَوْنَ أَثَرَةً))، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَمَا يَصْنَعُ مَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنَّا؟ قَالَ: ((أَدُّوا الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ))، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا))، قَالَ: قُلْنَا: مَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ((أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوجائیں گے جو دوسروں کو تم پر ترجیح دیں گے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے جو آدمی ایسی صورت حال کو پائے، وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس حق کو ادا کرنا جو تم پر ہے اور اپنے حق کا سوال اللہ تعالیٰ سے کرنا۔ … ایک روایت میں ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم میرے بعد دیکھو گے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی اور برے امور بھی تمہیں نظر آئیں گے۔ ہم نے کہا: ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا کرنے کا مشورہ دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان (حکمرانوں) کا حق ادا کرنا اور اپنے حق کا سوال اللہ تعالیٰ سے کرنا

وضاحت:
فوائد: … جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ جب زکوۃ ظالم حکمرانوں کے سپرد کر دی جائے گی تو ربّ المال بریء الذمہ ہو جائے گا اور اس کا فرض ساقط ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3438
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7052، ومسلم: 1843، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3641»