الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ بَرَاءَةِ الْمَالِ بِدَفْعِ الزَّكَاةِ إِلَى الْمُصَدِّقِ وَإِنْ أَسَاءَ التَّصَرُّفَ فِيهَا) باب: زکوۃ کے عامل کو زکوۃ دے دینے سے مالک بریٔ الذمہ ہو جاتا ہے،¤خواہ وہ نمائندہ اس میں ناجائز تصرف کرے
عَنْ أَنَسَ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((نَعَمْ، إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا، فَلَكَ أَجْرُهَا وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا))۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بنو تمیم کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ نمائندے کو زکوٰۃ ادا کر دوں تو کیا میں اللہ اور اس کے رسول کے ہاں بری ہو جاؤں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب تم میرے نمائندے کو زکوٰۃ ادا کر دو گے تو تمہاری ذمہ داری پوری ہو جائے گی اور تمہیں اس کا اجر ملے گا، البتہ اس میں جو آدمی تبدیلی (کرتے ہوئے ناجائز تصرف) کرے گا، وہ گنہگار ہو گا۔