الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْمُبَادَرَةِ إِلَى إِخْرَاجِهَا وَتَعْجِيلِهَا قَبْلَ حُلُولِهَا وَدُعَاءِ الْإِمَامِ لِمُعْطِيهَا باب: زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3435
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَوْفَى يَقُولُ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِ أَبِي فَقَالَ: ((اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں نے سیدناعبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے حق میں رحمت کی دعا کرتے، ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ أَبِی أَوْفَی۔ (یا اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔)
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی صدقہ اور زکوٰۃ وغیرہ ادا کرے تو وصول کرنے والے کو اس کے حق میں رحمت و برکت کی دعا کرنی چاہئے، اس سے اس کی حوصلہ افزائی ہو جاتی ہے۔