الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْمُبَادَرَةِ إِلَى إِخْرَاجِهَا وَتَعْجِيلِهَا قَبْلَ حُلُولِهَا وَدُعَاءِ الْإِمَامِ لِمُعْطِيهَا باب: زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِصَدَقَةٍ قَالَ: ((اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ))، وَإِنَّ أَبِي أَتَاهُ بِصَدَقَةِ فَقَالَ: ((اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى))۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ ، جو درخت والے (یعنی بیعت ِ رضوان کرنے والے) صحابہ کرام میں سے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صدقہ لے کر آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے حق میں یوں دعا فرماتے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ۔ (اے اللہ! تو ان پر رحم فرما۔) میرے والد بھی صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آل أَبِی أَوْفَی۔ (اے اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔)