حدیث نمبر: 3429
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا، فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُّبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ، قَالَ: ((ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا، فَأَمَرْتُ بِقَسْمِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناعقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کی، سلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے اٹھ کر اپنی ایک بیوی کے گھر تشریف لے گئے اور پھر واپس آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس کیا کہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلدی کی وجہ سے تعجب ہوا ہے،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوران نماز مجھے یاد آیا کہ ہمارے ہاں سونے کی ایک ڈلی موجود ہے، مجھے یہ ناپسند لگا کہ شام ہو جائے یا رات گزر جائے اور یہ ہمارے پاس ہی ہو، اس لیے میں اسے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خیر کے امور سرانجام دینے میں جلدی کرنی چاہیے، اس طرح سے بندہ پہلی فرصت میں اپنی ذمہ داری سے خلاصی حاصل کر لیتا ہے، دوسروں کی ضرورت جلدی پوری ہو جاتی ہے اور خواہ مخواہ کے ٹال مٹول سے بھی انسان محفوظ رہ جاتا ہے اور آفات اور موانع کے درپے ہو جانے کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3429
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 851، 1430، 1221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19646»