حدیث نمبر: 3428
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ((الْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواں رائیگاں ہے، کان ضائع ہے اور جانور بھی رائیگاں ہے اور رِکاز میں پانچواں حصہ زکوۃ ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے اگر کسی آدمی کو کسی کے کنویں، کان اور چوپائے سے کوئی نقصان پہنچ جائے، جبکہ اصل مالک کا اس میں کوئی دخل نہ ہو، تو وہ مالک اس کے نقصان سے بری ہو گا۔
صحیح بخاری کی حدیث (۱۴۹۹) میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اَلْعَجْمَائُ جُبَارٌ،وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ۔))
اس مسلک کی تائید کرتے ہوئے کہ رکاز اور کان میں فرق ہے، شارح ابوداود امام عظیم آبادی کہتے ہیں: نبی کریم کے الفاظ ’’وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِی الرِّکَازِ الْخُمْسُ‘‘ (کان ضائع ہے اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔) میں ’’اَلْمَعْدِنُ‘‘ پر ’’اَلرِّکَاز‘‘ کا عطف ڈالا گیا اور دونوں کا علیحدہ علیحدہ حکم بیان کیا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک کان، رکاز نہیں ہے، بلکہ یہ دو مختلف اور متغایر چیزیں ہیں۔ اگر کان، رکاز ہی ہوتی تو حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ یوں ہوتے: ’’وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِیْہِ الْخُمْسُ‘‘۔ لیکن چونکہ یہ الفاظ نہیں کہے گئے، اس لیے اس سے یہ ظاہر ہوا کہ رکاز اور کان دو الگ الگ چیزیں ہیں اور یہ بات بھی ہے کہ عطف مغایرت پر دلالت کرتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واؤ عاطفہ کے ذریعے کان اور رکاز میں فرق کرنا، اس میں جمہور کے حق میں دلیل پائی جاتی ہے، سو ثابت ہوا کہ کان اور چیز ہے اور رکاز اور چیز ہے۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۳۹۷)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رکاز میںپانچواں حصہ زکوۃ ہے۔ رہا مسئلہ کان کا، تو اس کے بارے میں کسی صحیح حدیث کی روشنی میں کوئی خاص حکم نہیں ہے، جو چیز کان سے نکلے گی، اس کو دیکھ کر اس کی زکوۃ کافیصلہ کیا جائے، لیکن اس پر ایک سال کے گزر جانے کی شرط بھی ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3428
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2355، ومسلم: 1710، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7120»