الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي زَكَاةِ الْعَسَلِ باب: شہد کی زکوٰۃ کا بیان
عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي نَخْلًا، قَالَ: ((أَدِّ الْعُشُورَ))، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! احْمِهَا لِي، قَالَ: فَحَمَاهَا لِي، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: احْمِ لِي جَبَلَهَا، قَالَ: فَحَمَى لِي جَبَلَهَا۔ سیدناابو سیارہ متعی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں، ( یعنی میرے پاس شہد ہوتاہے۔)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا دسواں حصہ (بطورِ زکوۃ) ادا کیا کر۔ اس نے کہا: تو پھر آپ وہ علاقہ تو میرے لیے مختص کر دیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ علاقہ اس کے لیے محفوظ کر دیا۔ عبد الرحمن راوی نے (حدیث کے الفاظ بیان کرتے ہوئے) کہا: آپ وہ پہاڑ میرے لیے خاص کر دیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پہاڑ اس کے لیے مختص کر دیا۔
سنن ابوداود(۱۶۰۱) کی روایت کی میں ہے: (سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے جواب کے بعد) وہ لوگ اسی حساب سے زکوۃ ادا کرتے رہے، جس حساب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زکوۃ دیا کرتے تھے، اس لیے سفیان بن وہب نے دو وادیوں کو ان کے لیے محفوظ کر دیا تھا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہد کے بارے میں فرمایا: ((فِیْ کُلِّ عَشْرَۃِ اَزْقَاقٍ زِقٌّ۔)) … ’’ہر دس مشکوں میں ایک مشک (زکوۃ) ہے۔‘‘ (ترمذی: ۶۶۹) ان روایات سے معلوم ہوا کہ شہد میں اس وقت زکوۃ ادا کی جائے گی، جب حاکم کی طرف سے شہد والا کوئی خاص علاقہ کسی ایک شخص کے نام محفوظ کر دیا جائے گا، بصورتِ دیگر شہد پر زکوۃ نہیں ہو گی، امام احمد شہد میں دسویں حصے زکوۃ کے قائل تھے۔